اگر گاہک نے زیور بنوانے کا آرڈر دیا اور ساتھ میں کچھ بیعانہ بھی دیا، اور پھر کسی وجہ سے آرڈر کینسل کردیا تو اسے بیعانہ واپس کرنا لازم ہوگا، اور اسے ضبط کرنا جائز نہیں ہوگا۔
البتہ اگر دکاندار کو اس آرڈر پر کام کروانے کی وجہ سے کوئی حقیقی نقصان ہوا ہو، تو اس حقیقی نقصان کی تلافی بیعانہ سے کی جاسکتی ہے۔
مثال کے طور پر دکاندار نے آرڈر والا زیور بنوایا جس کی لاگت چھ لاکھ روپے 600,000 تھی، اور وہ پانچ لاکھ نوے ہزاروپے 590,000 کا بکا، تو دکاندار دس ہزار روپے 10,000کا حقیقی نقصان بیعانے کی رقم سے کاٹ سکتا ہے۔ اوراگر چھ لاکھ سے اوپر میں بکا یا پورے چھ لاکھ کا بکا تو دوکاندار بیعانے میں سے کوئی رقم نہیں کاٹ سکتا، اس صورت میں پورا بیعانہ واپس کیا جائے گا۔
اگر آرڈر والا سیٹ بکنے سے پہلے گاہک بیعانہ کا مطالبہ کرے تو باہمی رضامندی سے کچھ وقت کی سہولت اس سے لی جاسکتی ہے، کہ جب یہ سیٹ بک جائے گا تو مذکورہ تفصیل کے مطابق حساب برابر کرلیا جائے گا۔
کبھی گاہک ایسا زیور بنانے کا آرڈر دیتا ہے جو بہت ہی منفرد، مہنگا اور کسٹمائز ہوتا ہے جس کے خریدار بہت کم ہوتے ہیں، اور وہ بہت مشکل سے بکتا ہے، اور گاہک اس کے بیعانے کے طور پر دس فیصد یا کم وبیش رقم دکاندار کو ادا کرتا ہے، پھر زیور بننے کے بعد وہ آرڈر کینسل کردیتا ہے، اب اس زیور کو کسی تیسرے فرد کو بیچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
اس صورت میں اگر معتبر مدت گزرنے اور کوشش کے باوجود زیور نہ بکے تو اس کی گنجائش ہوگی کہ اسے گلا کر سونا حاصل کرنے میں جو نقصان ہو وہ بیعانے میں سے کاٹ کر بقیہ بیعانہ واپس کردیا جائے۔