سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کسٹمر نے دکاندار کو 2 سیٹ بنانے کا آرڈر دیا، جن کی قیمت 6 لاکھ روپے تھی، اور اس نے بطور بیعانہ ایک لاکھ روپے بھی دیئے، دو تین مہینے گذرنے کے بعد اس نے سودا کینسل کردیا، اب دکاندار نے جو مزدوری کاریگر کو دی تھی (پچاس ہزار روپے)وہ بیعانہ کی رقم سے کاٹ کر بقیہ رقم گاہک کو واپس کردی، اور وہ دونوں سیٹ اپنے پاس رکھ لئے، تو کیا یہ پچاس ہزار روپے بیعانہ کی رقم سے کاٹنا جائز ہے؟
جواب
گاہک نے دکاندار کو جو سیٹ بنانے کا آرڈر دیا، اور دکاندار نے وہ سیٹ اپنے سونے سے بنایا تو یہ شرعی طور پر استصناع کا معاملہ ہے، اور استصنا ع کا معاملہ دکاندار اور گاہک دونوں کی رضامندی کے بغیر ختم نہیں ہوسکتا، اب اگر گاہک نے معاملہ کینسل کردیا اور دکاندار نے بھی اس کو قبول کرلیا تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر دکاندار سودے کو کینسل کرنے پر رضامند نہیں، تو دکاندار سودے کو جاری رکھنے پر اصرار کرسکتا ہے۔
اور اگر گاہک سودا جاری رکھنے پر راضی نہ ہو، اور زیور تیار ہوگیا ہو تو اس صورت میں دکاندار کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ اس کو بیچے، اگر وہ اس کی لاگت سے کم پر بکے، مثال کے طور پر زیور کی لاگت چھ لاکھ روپے600,000/= تھی، اور وہ پانچ لاکھ نوے ہزاروپے90,000/= 5کا بکے، تو دکاندار دس ہزار روپے 10,000/=کا حقیقی نقصان بیعانے کی رقم سے کاٹ سکتا ہے۔اگر چھ لاکھ سے اوپر میں بکا یا پورے چھ لاکھ کا بکا تو دوکاندار بیعانے میں سے کوئی رقم نہیں کاٹ سکتا۔
فقه البيوع: (589-601/1)
ولكن أفتى بعض المتأخرين من علماء الحنفية بلزوم الاستصناع على الجانبين… ولكن أخذ مدوّنو مجلة الأحكام العدلية بقول اللّزوم… وقد مر ترجيح أن الاستصناع عقد لازم.
فقه البيوع: (603-605/1)
ولو شرع الصانع في بناء المشروع على أرض المستصنع، ثم انفسخ العقد لسبب من الأسباب، وجب تصفية العملية بحالتها الرَّاهنة، إمَّا بدفع الثَّمن بنسبة ما تمَّ من العمل، مثل أن يكون ما تمَّ من العمل نصف العمل المعقود عليه، فيدفع نصف الثمن، أو يعطى الصَّانع ثمن المثل للموادّ الّتي قدمها، وأجرة المثل لعمله، أو بطريق آخر للتَّصفية يتراضى عليه الطّرفان، وبهذا يكون ما تمَّ من البناء ملكا للمستصنع، ويحق له أن يعقد مع مقاول آخر لإتمام البناء على أساس الإجارة أو الاستصناع… أمَّا إذا لم يكن هناك شرط من المستصنع أنَّ الصَّانع يصنعه بنفسه، فيجوز له أن يفوِّض العمل إلى غيره.