ایک کاروبار چند شریک مل کر کررہے تھے، اب اس مشترکہ کاروبار سے اگر کوئی شریک نکلنا چاہے تو اس کو اس کا حصہ کس طرح دیا جائے گا؟
الجواب حامدا ومصلیا
اگر کوئی شریک کاروبار سے نکلنا چاہے، تو اس کو اس کا حصہ دینے کا طریقہ یہ ہے کہ کاروبار کے تمام اثاثہ جات کی قیمت لگائی جائے اور اس میں سے تمام ذمہ داریوں کو منہا کیا جائے، اس سے کاروبار کی اصل قیمت سامنے آجائے گی، پھر اگر کاروبار کی کچھ ساکھ ہو تو اس شعبہ کے تجربہ کار، غیر جانبدار، منصف مزاج اور دین دار افراد سے اس کی قیمت لگوائی جائے، پھر اس شریک کے سرمایے اور نفع اگر ہوتو اس کے بقدر اس کو رقم یا اثاثے دے دیے جائیں۔
تکملة فتح الملهم: (کتاب البیوع، 365/1، ط: مکتبة دار العلوم کراتشي)
ویدخل في ھذا القسم حق خلو المتجر (گڈول) أیضًا، فقد شاع في عصرنا بیع الأسماء التجارية، فمن اشتهر اسم متجرہ بأن المشترین یمیلون إلی ذٰلک الإسم بیع اسم متجرہ فقط، وهو في الحقیقة بیع لإحداث العقود مع المشترین بہٰذا الإسم الخاص، وقد أفتی حکیم الأمة مولانا الشیخ أشرف علي التھانوي رحمہ اللّٰہ بأن في هذا البیع سعة، وقاسه علی جواز النزول عن الوظائف بمال.
فقه البیوع: (277/1، ط: مکتبة معارف القرآن)
ویبدو لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ أن حق الاسم التجاری و العلامات التجارية، وان کان فی الأصل حقا مجردا غیر ثابت فی عین قائمة، و لکنه بعد التسجیل الحکومی الذی یتطلب جھدا کبیرا و بذل اموال جمة، و الذی تحصل له بعد ذلک صفة قانونية تمثلھا شھادات مکتوبة بید الحامل و فی دفاتر الحکومة، أشبه الحق المستقر فی العین، و التحق فی عرف التجار بالأعیان، فینبغی أن یجوز الاعتیاض عنه علی وجه البیع أيضًا.
امدادالاحکام: ( ص:340)
شرکت ختم کرنے کی صورت میں سرمایہ سے خریداجانے والا جو سامان ہوگا اس مشترکہ سامان کی قیمت لگاکر ہر ایک کا حصہ اور منافع اپنی اپنی سابقہ شرائط کے مطابق تقسیم کرلیاجائے، اور چاہیں تو ہر ایک شریک اپنے موجود سرمایہ کی رقم کے بقدر سامان لے لے یا دوسرا فریق باہمی رضامندی سے سامان اپنے پاس رکھ کر نقد رقم دے دے دونوں صورتیں درست ہیں۔