استصناع میں مبیع پر قبضہ حاصل كرنے سے پہلے اسے بیچنا جائز نہیں

 

 

سوال: كیا ایك موٹر سائیكل بنانے والی كمپنی كی فرنچائیز سے موٹر سائیكل كی بكنگ كروا كر اس كی ڈیلیوری سے پہلے فرنچائیز كے ذریعے اسے بیچنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

    واضح رہےکہ سوال میں مذکور صورت عقد استصناع کے معاملے پر مشتمل ہے، اورعقد استصناع میں وہ چیز جسے آرڈر پر تیار کرایا گیا ہو   اس وقت تک خریدنے والے کی ملکیت میں نہیں آتی جب تک وہ اس کے قبضے میں نہ آجائے، اگر وہ قبضے میں آنے سے پہلے اسے بیچ دیتا ہے تو یہ بیع باطل کہلائے گی، جو شرعا ناجائز اور حرام ہے، لہذا  موٹر سائیکل کو اس وقت تک آگے بیچنا جائز نہیں ہے، جب تک اس پر  گاہک یا اس کے وکیل کا قبضہ متحقق نہ ہوجائے۔

    صورت مسئولہ میں اگر ایک الگ معاملے سے جو عقد استصناع سے جدا ہو، گاہک فرنچائز سے یہ معاملہ کرتا ہے کہ وہ اس کی طرف سے موٹر سائیکل پر قبضہ کرلے، اور پھر اسے آگے بیچ دے، یا گاہک خود اس پر قبضہ کرکے اسے فرنچائز کے حوالے کردے تاکہ وہ اس کو بیچ دے تو یہ جائز ہے، لیکن اگر نہ ہی گاہک اس پر قبضہ کرتا ہے نہ ہی وہ ایک الگ مستقل معاملے سے فرنچائز کو وکیل بالقبض بناتا ہے، تو اس صورت میں یہ معاملہ ناجائز ہے۔

الفتاوى الهندية (3/ 207)

الاستصناع ينعقد إجارة ابتداء ويصير بيعا انتهاء قبل التسليم بساعة

الفتاوى الهندية (3/ 208)

والأصح أن المعقود عليه المستصنع فيه ولهذا لو جاء به مفروغا عنه لا من صنعته أو من صنعته قبل العقد جاز كذا في الكافي ولا يتعين إلا بالاختيار حتى لو باعه الصانع قبل أن يراه المستصنع جاز

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 225)

والمبيع هو العين لا عمله) أي أنه بيع عين موصوفة في الذمة

About Us

FAQs

M/67, BLOCK/2, P.E.C.H.S, KASHMIR ROAD, KARACHI

info@alkitabshariahadvisory.com haris.kasbaati@gmail.com

+92-336-2563103

© 2023-2024 All Rights Reserved By AL-KITAB SHARIAH ADVISORY (PRIVATE) LIMITED